صحیفہ کاملہ

3۔ تذلل و عاجزی کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دعا

۳۔ مِنْ دُعَآئِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِی التَّذَلُّلِ

تذلل و عاجزی کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دعا

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْمَوْلٰى وَ اَنَا الْعَبْدُ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الْعَبْدَ اِلَّا الْمَوْلٰى؟

اے میرے آقا! اے میرے مالک! تو آقا ہے اور میں بندہ، اور بندے پر آقا کے سوا کون رحم کھائے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْعَزِیْزُ وَ اَنَا الذَّلِیْلُ، وَهَلْ یَرْحَمُ الذَّلِیْلَ اِلَّا الْعَزِیْزُ؟

میرے مولا! میرے آقا! تو عزت والا ہے اور میں ذلیل، اور ذلیل پر عزت دار کے علاوہ اور کون رحم کرے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْخَالِقُ وَ اَنَا الْمَخْلُوْقُ، وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَخْلُوْقَ اِلَّا الْخَالِقُ؟

میرے مالک! میرے مالک! تو خالق ہے اور میں مخلوق، اور مخلوق پر خالق کے سوا کون ترس کھائے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْمُعْطِیْ وَ اَنَا السَّآئِلُ، وَ هَلْ یَرْحَمُ السَّآئِلَ اِلَّا الْمُعْطِیْ؟

میرے مولا! میرے مولا! تو عطا کرنے والاہے اور میں سوالی، اور سائل پر عطا کرنے والے کے علاوہ کون مہربانی کرے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْمُغِیْثُ وَ اَنَا الْمُسْتَغِیْثُ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الْمُسْتَغِیْثَ اِلَّا الْمُغِیْثُ؟

میرے آقا! میرے آقا! تو فریاد رس ہے اور میں فریادی، اور فریادی پر فریادرس کے علاوہ کون رحم کرے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْبَاقِیْ وَ اَنَا الْفَانِیْ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الْفَانِیَ اِلَّا الْبَاقِیْ؟

میرے مالک! میرے مالک! تو باقی ہے اور میں فانی، اور فانی پر باقی کے علاوہ کون رحم کرے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الدَّآئِمُ وَ اَنَا الزَّآئِلُ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الزَّآئِلَ اِلَّا الدَّآئِمُ؟

میرے آقا! میرے آقا! تو دائم و جاوید ہے اور میں مٹ جانے والا، اور مٹ جانے والے پر دائم و جاوید کے علاوہ کون رحم کرے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْحَیُّ وَ اَنَا الْمَیِّتُ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الْمَیِّتَ اِلَّا الْحَیُّ؟

میرے مولا! میرے مولا! تو زندہ ہے اور میں مُردہ، اور مُردہ پر زندہ کے سوا کون ترس کھائے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْقَوِیُّ وَ اَنَا الضَّعِیْفُ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الضَّعِیْفَ اِلَّا الْقَوِیُّ؟

میرے مالک! میرے مالک! تو طاقتور ہے اور میں کمزور، اور کمزور پر طاقتور کے علاوہ کون رحم کرے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْغَنِیُّ وَ اَنَا الْفَقِیْرُ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الْفَقِیْرَ اِلَّا الْغَنِیُّ؟

میرے مولا! میرے مالک! تو غنی ہے اور میں تہی دست، اور تہی دست پر غنی کے علاوہ کون رحم کھائے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْكَبِیْرُ وَاَنَا الصَّغِیْرُ، وَهَلْ یَرْحَمُ الصَّغِیْرَ اِلَّا الْكَبِیْرُ؟

میرے آقا! میرے آقا !تو بڑا ہے اور میں چھوٹا، اور چھوٹے پر بڑے کی سوا کون نظر شفقت کرے گا؟

مَوْلَایَ! مَوْلَایَ! اَنْتَ الْمَالِكُ وَ اَنَا الْمَمْلُوْكَ، وَ هَلْ یَرْحَمُ الْمَمْلُوْكَ اِلَّا الْمَالِكُ؟.

میرے مولا! میرے مولا! تو مالک ہے اور میں غلام، اور غلام پر مالک کے سوا کون مہربانی فرمائے گا۔

–٭٭–

یہ دُعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تضرع و استرحام کے سلسلہ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمائے حسنی میں سے مختلف ناموں کے ساتھ یاد کیا ہے اور وہ اسماء جن جن معنیٔ و صفی کے حامل ہیں ان کے مقابلہ میں بطور صنعت طباق و تضاد اپنے لئے ایک اسم کا انتخاب کیا ہے۔ جیسے ’’مولیٰ‘‘ کے مقابلہ میں ’’عبد‘‘، ’’غنی‘‘ کے مقابلہ میں ’’فقیر‘‘، ’’باقی‘‘ کے مقابلہ میں ’’فانی‘‘ وغیرہ۔یہ انداز خطاب، طلب و سوال کے استحقاق پر بھی روشنی ڈالتا ہے اس طرح کہ بندہ اپنے آقا سے اور فقیر غنی سے طلب نہ کرے تو کس سے رحم کی التجا کرے اور کس کے آگے جھولی پھیلائے اور آقا و مالک کے سوا ہو بھی کون سکتا ہے، جو اپنے بندہ پر شفقت و مہربانی کرے اور غنی کے علاوہ کون ہو سکتا ہے جو فقیر کی بے مائیگی کو غنا و خوشحالی سے بدل سکے۔

اس بنا پر حضرتؑ اس کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ: ’’تو آقا و مولا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور بندہ پر نظر شفقت و مرحمت آقا ہی کر سکتا ہے‘‘۔ ’’مولیٰ‘‘ کے معنی مالک و متصرف کے ہیں۔ یعنی اسے اپنے بندوں پر ہر طرح کا اختیار حاصل ہے۔ اس معنی سے وہی حقیقی مالک و مولا ہے۔

چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿ھُوَمَوْلٰىكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى﴾

وہ تمہارا مولا ہے تو کیا اچھا مولا ہے۔ [۱]

پھر فرماتے ہیں کہ: ’’تو عزیز ہے اور میں ذلیل ہوں‘‘۔ یعنی میں تیرے آگے عاجز و سر افگندہ ہوں اور تو غلبہ و اقتدار کا مالک ہے۔

چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۶﴾

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عزت و غلبہ اور حکمت والا ہے۔ [۲]

’’اور تو خالق ہے اور میں مخلوق ہوں‘‘۔ یعنی میں تیرا پیدا کر دہ ہوں اور تو میرا اور تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿ھُوَاللہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ﴾

وہی اللہ ہے جو پیدا کرنے والا، ایجاد کرنے والا، اور صورت گر ہے۔ [۳]

’’اور تو عطا کرنے والا اور میں سوالی ہوں‘‘۔ یعنی ہر عطا و بخشش کی انتہا تیری ذات پر ہے۔ اس لئے ہر دست طلب تیرے آگے بڑھتا ہے اور تجھ سے مانگنے والا کبھی محروم و ناکام نہیں پلٹتا۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ﴾

تم نے جو کچھ اس سے مانگا اس نے تمہیں دیا۔ [۴]

’’اور تو فریاد رس ہے اور میں فریادی ہوں‘‘۔ چنانچہ وہی رنج و قلق کو دور کرتا اور پریشان و مصیبت زدہ لوگوں کی داد فریاد سنتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْءَ﴾

وہ کون ہے جسے پریشان حال جب پکارے تو وہ اس کی سنتا اور دکھ درد کو دور کرتا ہے۔ [۵]

’’اور تو باقی ہے اور میں فانی ہوں‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز کیلئے فنا ضروری ہے اور کوئی بھی موت کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْہَا فَانٍ وَّيَبْقٰى وَجْہُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۲۷﴾

روئے زمین کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور تمہارا پروردگار جو جلالت و بزرگی کا سرمایہ دار ہے باقی رہنے والا ہے۔ [۶]

’’اور تو دائم و جاوید ہے اور میں معرض زوال میں ہوں‘‘۔ مقصد یہ ہے کہ ہر چیز فانی و زوال پذیر ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کیلئے بقا و دوام نہیں۔ صرف اسی کی شاہی و فرمانروائی باقی و برقرار رہنے والی ہے۔

چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۝۱۶﴾

آج کس کی بادشاہی ہے؟ اس اللہ تعالیٰ کی جو یکتا و غالب ہے۔ [۷]

’’اور تو زندہ ہے اور میں مردہ ہوں‘‘۔ خدا کے زندہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود موجود ہے اور دوسرے کو زندگی و حیات بخشنے والا ہے۔ جب کائنات ہستی کی زندگی و بقا اس کی حیات سے وابستہ ہے اور ہر چیز اپنے وجود میں اس کی محتاج و دست نگر اور خود اس کے وجود کو مستقل حیثیت حاصل نہیں ہے تو وہ زندہ رہنے کے باوجود مردہ ہی کہی جانے کی سزاوار ہے۔ اس لئے حضرتؑ نے اس ذات کو جو سرچشمہ حیات اور ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ’’حیّ‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو ’’مردہ‘‘ کہا ہے۔ اور اس لئے بھی کہ زندگی کے پہلے عدم اور زندگی کے بعد موت ہے اور جو چیز عدم و موت کے درمیان واقع ہو اور وہ بھی اس طرح کہ سر رشتہ حیات دوسرے کے ہاتھ میں ہو تو ایسی زندگی کا حامل ’’مردہ‘‘ ہی کہے جانے کے قابل ہے۔ اگر کوئی زندہ کہے جانے کا مستحق ہے تو وہ ذات جو عدم و نیستی سے نا آشنا اور ازلی و ابدی ہے۔

چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ۝۲ۭ﴾

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور نظم عالم قائم کرنے والا ہے۔ [۸]

’’تو قوی ہے اور میں ضعیف ہوں‘‘۔ یعنی تو ہر چیز پر غلبہ و اقتدار رکھتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿ اِنَّ اللہَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ۝۷۴﴾

یقیناً خدا قوی و غالب ہے۔ [۹]

’’اور میں عاجز و کمزور اور ضعیف و ناتوان ہوں‘‘۔ چنانچہ انسان کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے:

﴿وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا۝۲۸﴾

انسان کمزور و ناتوان پیدا کیا گیا ہے۔ [۱۰]

’’اور تو غنی ہے اور میں فقیر و نادار ہوں‘‘۔ ’’غنی‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ وہ بے نیاز اور ہر قسم کی احتیاج سے بری ہے، اس کے مقابلے میں انسان سراپا فقر و احتیاج ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿ وَاللہُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ۝۰ۚ﴾

اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تم محتاج ہو۔ [۱۱]

’’تو کبیر ہے اور میں پست و صغیر ہوں‘‘۔ ’’کبیر‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ذات جلال و عظمت اور کبریائی و رفعت کی مالک ہے اور اس کے مقابلہ میں ہر فرد کم رتبہ اور پست تر ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿وَاَنَّ اللہَ ھُوالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۳۰ۧ﴾

یقیناً صرف اللہ تعالیٰ ہی بلند مرتبہ و بزرگ ہے۔ [۱۲]

’’اور تو مالک ہے اور میں مملوک ہوں‘‘۔ ’’مالک‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ خداوند عالم ذات و صفات میں ہر موجود سے مستغنی و بے نیاز ہے اور کوئی چیز اس کے قبضۂ قدرت سے باہر اور اس کے حدود فرمانروائی سے خارج نہیں ہے، کیونکہ ہر جگہ اور ہر مقام پر اسی کی حکومت و فرمانروائی ہے۔

چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ﴾

اے شاہی و جہانداری کے مالک۔ [۱۳]

[٭٭٭٭٭]

[۱]۔ سورہ حج، آیت ۷۸

[۲]۔ سورہ آل عمران، آیت ۶

[۳]۔ سورہ حشر، ایت ۲۴

[۴]۔ سورہ ابراہیم، آیت ۲۴

[۵]۔ سورہ نمل، آیت ۶۲

[۶]۔ سورہ رحمٰن، آیت ۲۷

[۷]۔ سورہ مومن (غافر), آیت ۱۶

[۸]۔ سورہ آل عمران، آیت ۳

[۹]۔ سورہ حج، آیت ۷۴

[۱۰]۔ سورہ نساء، آیت ۲۸

[۱۱]۔ سورہ محمد، آیت ۳۸

[۱۲]۔ سورۃ لقمان، آیت ۳۰

[۱۳]۔ سورۃ آل عمران، آیت ۲۶

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button